بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹا کر ان کو نسبت دیںاسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے
About this couplet
This is couplet 5 of 9 in “بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے” in the section Ghazals, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Nawa-e-Sarosh (نوائے سروش).
Read it in the poem۵ / ۹