بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سےیدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
About this couplet
This is couplet 6 of 9 in “بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے” in the section Ghazals, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Nawa-e-Sarosh (نوائے سروش).
Read it in the poem۶ / ۹