نوائے سروشغزلیات
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائی
۱
نسیمِ صبح جب کنعاں میں بوئے پیرَہن لائیپئے یعقوب ساتھ اپنے نویدِ جان و تن لائی
۲
وقارِ ماتمِ شب زندہ دارِ ہجر رکھنا تھاسپیدی صبحِ غم کی دوش پر رکھ کر کفن لائی
۳
شہیدِ شیوۂ منصور ہے اندازِ رسوائیمصیبت پیشگیٔ مدّعا دار و رسن لائی
۴
وفا دامن کشِ پیرایہ و ہستی ہے اے غالبؔکہ پھر نزہت گہِ غربت سے تا حدِّ وطن لائی
۱۱ / ۲۰