نوائے سروشغزلیات

یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے

۱

یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گےدل کے سب زخم بھی ہم شکلِ گریباں ہوں گے

۲

وجہِ مایوسیٔ عاشق ہے تغافل ان کانہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے

۳

دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کوبے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے

۴

منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنیہم بھی اب پیروئے گیسوئے پریشاں ہوں گے

۵

گردشِ بخت نے مایوس کیا ہے لیکناب بھی ہر گوشۂ دل میں کئی ارماں ہوں گے

۶

ہے ابھی خوں سے فقط گرمیٔ ہنگامۂ اشکپر یہ حالت ہے تو نالے شرر افشاں ہوں گے

۷

باندھ کر عہدِ وفا اتنا تنفّر، ہے ہےتجھ سے بے مہر کم اے عمرِ گریزاں! ہوں گے

۸

اس قدر بھی دلِ سوزاں کو نہ جان افسردہابھی کچھ داغ تو اے شمع! فروزاں ہوں گے

۹

عہد میں تیرے کہاں گرمیٔ ہنگامۂ عیشگل میری قسمت واژونہ پہ خنداں ہوں گے

۱۰

خوگرِ عیش نہیں ہیں ترے برگشتہ نصیباُن کو دشوار ہیں وہ کام جو آساں ہوں گے

۱۱

موت پھر زیست نہ ہو جائے یہ ڈر ہے غالبؔوہ مری نعش پہ انگشت بہ دنداں ہوں گے

۱۳ / ۲۰