نوائے سروشغزلیات
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہے
۱
نمائش پردہ دارِ طرز بیدادِ تغافل ہےتسلّی جانِ بلبل کے لیے خندیدنِ گل ہے
۲
نمودِ عالَمِ اسباب کیا ہے؟ لفظِ بے معنیکہ ہستی کی طرح مجھ کو عدم میں بھی تامّل ہے
۳
نہ رکھ پابندِ استغنا کو قیدی رسمِ عالم کاترا دستِ دعا بھی رخنہ اندازِ توکّل ہے
۴
نہ چھوڑا قید میں بھی وحشیوں کو یادِ گلشن نےیہ چاکِ پیرہن گویا جوابِ خندۂ گل ہے
۵
ابھی دیوانگی کا راز کہہ سکتے ہیں ناصح سےابھی کچھ وقت ہے غالبؔ ابھی فصلِ گل و مُل ہے
۱۴ / ۲۰