نوائے سروشغزلیات

خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیے

۱

خود جان دے کے روح کو آزاد کیجیےتاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجیے

۲

بھولے ہوئے جو غم ہیں انھیں یاد کیجیےتب جاکے ان سے شکوۂ بے داد کیجیے

۳

حالاں کہ اب زباں میں نہیں طاقتِ فغاںپر دل یہ چاہتا ہے کہ فریاد کیجیے

۴

بس ہے دلوں کے واسطے اک جنبشِ نگاہاجڑے ہوئے گھروں کو پھر آباد کیجیے

۵

کچھ دردمند منتظرِ انقلاب ہیںجو شاد ہو چکے انھیں ناشاد کیجیے

۶

شاید کہ یاس باعثِ افشائے راز ہولطف و کرم بھی شاملِ بے داد کیجیے

۷

بیگانۂ رسومِ جہاں ہے مذاقِ عشقطرزِ جدیدِ ظلم کچھ ایجاد کیجیے

۱۵ / ۲۰