کلامِ حالیردیف ت

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت

۱

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورتنہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

۲

کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبلکل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت

۳

ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصلہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت

۴

اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیاراک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

۵

دیکھیے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچےصورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت

۶

واعظو آتش دوزخ سے جہاں کو تم نےیہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت

۷

کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرصاس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت

۸

میں بچا تیر حوادث سے نشانہ بن کرآڑے آئی مری تسلیم سپر کی صورت

۹

شوق میں اس کے مزا درد میں اس کے لذتناصحو اس سے نہیں کوئی مفر کی صورت

۱۰

حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضروررہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت

۱۱

رہنماؤں کے ہوئے جاتے ہیں اوسان خطاراہ میں کچھ نظر آتی ہے خطر کی صورت

۱۲

یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سو بارپر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت

۱۳

ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماںدیکھنا آپ کی اور آپ کے گھر کی صورت

۴ / ۶۰