کلامِ حالیردیف ے
حق وفا کے جو ہم جتانے لگے
۱
حق وفا کے جو ہم جتانے لگےآپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے
۲
تھا یہاں دل میں طعن وصل عدوعذر ان کی زباں پہ آنے لگے
۳
ہم کو جینا پڑے گا فرقت میںوہ اگر ہمت آزمانے لگے
۴
ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائےاب وہ باتیں بہت بنانے لگے
۵
جان بچتی نظر نہیں آتیغیر الفت بہت جتانے لگے
۶
تم کو کرنا پڑے گا عذر جفاہم اگر درد دل سنانے لگے
۷
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیمہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
۸
جی میں ہے لوں رضائے پیر مغاںقافلے پھر حرم کو جانے لگے
۹
سر باطن کو فاش کر یا رباہل ظاہر بہت ستانے لگے
۱۰
وقت رخصت تھا سخت حالیؔ پرہم بھی بیٹھے تھے جب وہ جانے لگے
۲۱ / ۶۰