کلامِ حالیردیف ے
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
۱
جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہےقدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے
۲
دم گریہ کس کا تصور ہے دل میںکہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے
۳
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کےملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے
۴
بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کووہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے
۵
ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میںاجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے
۶
مجھے کل کے وعدے پہ کرتے ہیں رخصتکوئی وعدہ پورا ہوا چاہتا ہے
۷
فزوں تر ہے کچھ ان دنوں ذوق عصیاںدر رحمت اب وا ہوا چاہتا ہے
۸
قلق گر یہی ہے تو راز نہانیکوئی دن میں رسوا ہوا چاہتا ہے
۹
وفا شرط الفت ہے لیکن کہاں تک؟دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے
۱۰
بہت حظ اٹھاتا ہے دل تجھ سے مل کرقلق دیکھیے کیا ہوا چاہتا ہے
۱۱
غم رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدمسو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے
۱۲
بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالیؔکوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے
۲۲ / ۶۰