کلامِ حالیردیف ے

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے

۱

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئےکب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے

۲

ہے تجلی بھی نقاب روئے یاراس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے

۳

غیرممکن ہے نہ ہو تاثیر غمحال دل پھر اس کو لکھا چاہئے

۴

ہے دل افگاروں کی دل داری ضرورگر نہیں الفت مدارا چاہئے

۵

ہے کچھ اک باقی خلش امید کییہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا چاہئے

۶

دوستوں کی بھی نہ ہو پروا جسےبے نیازی اس کی دیکھا چاہئے

۷

بھا گئے ہیں آپ کے انداز و نازکیجئے اغماض جتنا چاہئے

۸

شیخ ہے ان کی نگہ جادو بھریصحبت رنداں سے بچنا چاہئے

۹

لگ گئی چپ حالیؔ رنجور کوحال اس کا کس سے پوچھا چاہئے

۲۳ / ۶۰