کلامِ حالیردیف ے

دل کو درد آشنا کیا تو نے

۱

دل کو درد آشنا کیا تو نےدرد دل کو دوا کیا تو نے

۲

طبع انساں کو دی سرشت وفاخاک کو کیمیا کیا تو نے

۳

وصل جاناں محال ٹھہرایاقتل عاشق روا کیا تو نے

۴

تھا نہ جز غم بساط عاشق میںغم کو راحت فزا کیا تو نے

۵

جان تھی اک وبال فرقت میںشوق کو جاں گزا کیا تو نے

۶

تھی محبت میں ننگ منت غیرجذب دل کو رسا کیا تو نے

۷

راہ زاہد کو جب کہیں نہ ملیدرمے خانہ وا کیا تو نے

۸

قطع ہونے ہی جب لگا پیوندغیر کو آشنا کیا تو نے

۹

تھی جہاں کارواں کو دینی راہعشق کو رہنما کیا تو نے

۱۰

ناؤ بھر کر جہاں ڈبونی تھیعقل کو ناخدا کیا تو نے

۱۱

بڑھ گئی جب پدر کو مہر پسراس کو اس سے جدا کیا تو نے

۱۲

جب ہوا ملک و مال رہزن ہوشبادشہ کو گدا کیا تو نے

۱۳

جب ملی کام جاں کو لذت درددرد کو بے دوا کیا تو نے

۱۴

جب دیا راہرو کو ذوق طلبسعی کو نارسا کیا تو نے

۱۵

پردۂ چشم تھے حجاب بہتحسن کو خود نما کیا تو نے

۱۶

عشق کو تاب انتظار نہ تھیغرفہ اک دل میں وا کیا تو نے

۱۷

حرم آباد اور دیر خرابجو کیا سب بجا کیا تو نے

۱۸

سخت افسردہ طبع تھی احبابہم کو جادو نوا کیا تو نے

۱۹

پھر جو دیکھا تو کچھ نہ تھا یا ربکون پوچھے کہ کیا کیا تو نے

۲۰

حالیؔ اٹھا ہلا کے محفل کوآخر اپنا کہا کیا تو نے

۲۴ / ۶۰