کلامِ حالیردیف ے

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

۱

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہےنہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے

۲

قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکرشکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے

۳

قوت دست خدائی ہے شکیبائی میںوقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے

۴

ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہےہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے

۵

نشہ میں چور نہ ہوں جھانجھ میں مخمور نہ ہوںپند یہ پیر خرابات نے فرمائی ہے

۶

نظر آتی نہیں اب دل میں تمنا کوئیبعد مدت کے تمنا مری بر آئی ہے

۷

بات سچی کہی اور انگلیاں اٹھیں سب کیسچ میں حالیؔ کوئی رسوائی سی رسوائی ہے

۲۵ / ۶۰