کلامِ حالیردیف ج
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج
۱
بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آجبول کر ہم نے منہ کی کھائی آج
۲
چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھبات بگڑی بنی بنائی آج
۳
شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنیپر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج
۴
بزم ساقی نے دی الٹ ساریخوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج
۵
معصیت پر ہے دیر سے یا ربنفس اور شرع میں لڑائی آج
۶
غالب آتا ہے نفس دوں یا شرعدیکھنی ہے تری خدائی آج
۷
چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارونیند پھر رات بھر نہ آئی آج
۸
زد سے الفت کی بچ کے چلنا تھامفت حالیؔ نے چوٹ کھائی آج
۶ / ۶۰