کلامِ حالیردیف ر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

۱

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پر

۲

رہیں نا آشنا زمانہ سےحق ہے تیرا یہ آشناؤں پر

۳

رہروو با خبر رہو کہ گماںرہزنی کا ہے رہنماؤں پر

۴

ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیامرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر

۵

اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بالاڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر

۶

شہسواروں پہ بند ہے جو راہوقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر

۷

نہیں منعم کو اس کی بوند نصیبمینہ برستا ہے جو گداؤں پر

۸

نہیں محدود بخششیں تیریزاہدوں پر نہ پارساؤں پر

۹

حق سے درخواست عفو کی حالیؔکیجے کس منہ سے ان خطاؤں پر

۷ / ۶۰