کلامِ حالیردیف ت

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

۱

گو جوانی میں تھی کج رائی بہتپر جوانی ہم کو یاد آئی بہت

۲

زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیاجمع ہیں ہر سو تماشائی بہت

۳

ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دلراس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت

۴

سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیںدل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت

۵

چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دلراحت اس تکلیف میں پائی بہت

۶

آ رہی ہے چاہ یوسف سے صدادوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

۷

وصل کے ہو ہو کے ساماں رہ گئےمینہ نہ برسا اور گھٹا چھائی بہت

۸

جاں نثاری پر وہ بول اٹھے مریہیں فدائی کم تماشائی بہت

۹

ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کر دیاخاکساری اپنی کام آئی بہت

۱۰

کر دیا چپ واقعات دہر نےتھی کبھی ہم میں بھی گویائی بہت

۱۱

گھٹ گئیں خود تلخیاں ایام کییا گئی کچھ بڑھ شکیبائی بہت

۱۲

ہم نہ کہتے تھے کہ حالیؔ چپ رہوراست گوئی میں ہے رسوائی بہت

۵ / ۶۰