کلامِ حالیردیف م

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم

۱

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہمپر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہم

۲

خوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میںگو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم

۳

کرتے ہیں طاعت تو کچھ خواہاں نمائش کے نہیںپر گنہ چھپ چھپ کے کرنے میں مزا پاتے ہیں ہم

۴

دیدہ و دل کو خیانت سے نہیں رکھ سکتے بازگرچہ دست و پا کو اکثر بے خطا پاتے ہیں ہم

۵

دل میں درد عشق نے مدت سے کر رکھا ہے گھرپر اسے آلودۂ حرص و ہوا پاتے ہیں ہم

۶

ہو کے نادم جرم سے پھر جرم کرتے ہیں وہیجرم سے گو آپ کو نادم سدا پاتے ہیں ہم

۷

ہیں فدا ان دوستوں پر جن میں ہو صدق و صفاپر بہت کم آپ میں صدق و صفا پاتے ہیں ہم

۸

گو کسی کو آپ سے ہونے نہیں دیتے خفااک جہاں سے آپ کو لیکن خفا پاتے ہیں ہم

۹

جانتے اپنے سوا سب کو ہیں بے مہر و وفااپنے میں گر شمۂ مہر و وفا پاتے ہیں ہم

۱۰

بخل سے منسوب کرتے ہیں زمانہ کو سداگر کبھی توفیق ایثار و عطا پاتے ہیں ہم

۱۱

ہو اگر مقصد میں ناکامی تو کر سکتے ہیں صبردرد خودکامی کو لیکن بے دوا پاتے ہیں ہم

۱۲

ٹھہرتے جاتے ہیں جتنے چشم عالم میں بھلےحال نفس دوں کا اتنا ہی برا پاتے ہیں ہم

۱۳

جس قدر جھک جھک کے ملتے ہیں بزرگ و خورد سےکبر و ناز اتنا ہی اپنے میں سوا پاتے ہیں ہم

۱۴

گو بھلائی کرکے ہم جنسوں سے خوش ہوتا ہے جیتہہ نشیں اس میں مگر درد ریا پاتے ہیں ہم

۱۵

ہے ردائے نیک نامی دوش پر اپنے مگرداغ رسوائی کے کچھ زیر ردا پاتے ہیں ہم

۱۶

راہ کے طالب ہیں پر بے راہ پڑتے ہیں قدمدیکھیے کیا ڈھونڈھتے ہیں اور کیا پاتے ہیں ہم

۱۷

نور کے ہم نے گلے دیکھے ہیں اے حالیؔ مگررنگ کچھ تیری الاپوں میں نیا پاتے ہیں ہم

۱۱ / ۶۰