کلامِ حالیردیف م

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم

۱

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہمسب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم

۲

اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہمکچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم

۳

ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پربھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم

۴

اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کروکچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ہم

۵

جنت میں تو نہیں اگر یہ زخم تیغ عشقبدلیں گے تجھ کو زندگیٔ جاوداں سے ہم

۱۲ / ۶۰