کلامِ حالیردیف ض

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض

۱

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرض

۲

دل میں ہے اے خضر گر صدق طلبراہرو کو رہنموں سے کیا غرض

۳

حاجیو ہے ہم کو گھر والے سے کامگھر کے محراب و ستوں سے کیا غرض

۴

گنگنا کر آپ رو پڑتے ہیں جوان کو چنگ و ارغنوں سے کیا غرض

۵

نیک کہنا نیک جس کو دیکھناہم کو تفتیش دروں سے کیا غرض

۶

دوست ہیں جب زخم دل سے بے خبران کو اپنے اشک خوں سے کیا غرض

۷

عشق سے ہے مجتنب زاہد عبثشیر کو صید زبوں سے کیا غرض

۸

کر چکا جب شیخ تسخیر قلوباب اسے دنیائے دوں سے کیا غرض

۹

آئے ہو حالیؔ پئے تسلیم یاںآپ کو چون و چگوں سے کیا غرض

۱۰ / ۶۰