کلامِ حالیردیف ن

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

۱

اب وہ اگلا سا التفات نہیںجس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

۲

مجھ کو تم سے اعتماد وفاتم کو مجھ سے پر التفات نہیں

۳

رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھزندگی موت ہے حیات نہیں

۴

یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکنفرصت غم کو بھی ثبات نہیں

۵

کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاںسرسری دل کی واردات نہیں

۶

ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشیدجاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں

۷

قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔعاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

۱۳ / ۶۰