کلامِ حالیردیف ن
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں
۱
غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں
۲
خوبروئی کے لیے زشتی خو بھی ہے ضرورسچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں
۳
قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکارہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں
۴
کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدادل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں
۵
حق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کاجس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں
۶
دیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہکعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں
۷
ہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کرجو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں
۱۴ / ۶۰