کلامِ حالیردیف ن
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
۱
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
۲
ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دورہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
۳
یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیرتھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
۴
اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشقرکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں
۵
بس ہو چکا بیاں کسل و رنج راہ کاخط کا مرے جواب ہے اے نامہ بر کہاں
۶
کون و مکاں سے ہے دل وحشی کنارہ گیراس خانماں خراب نے ڈھونڈا ہے گھر کہاں
۷
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہاں
۸
ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کیدل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں
۹
حالیؔ نشاط نغمہ و مے ڈھونڈھتے ہو ابآئے ہو وقت صبح رہے رات بھر کہاں
۱۵ / ۶۰