کلامِ حالیردیف ڑ
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
۱
گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ
۲
آج تک قصر عمل ہے ناتمامبندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ
۳
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محالاے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
۴
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکارپر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ
۵
دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کےسو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ
۶
عید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھدل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
۷
کھیت رستے پر ہے اور رہرو سوارکشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ
۸
بات واعظ کی کوئی پکڑی گئیان دنوں کمتر ہے کچھ ہم پر لتاڑ
۹
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباںکر لیا ساری خدائی سے بگاڑ
۸ / ۶۰