کلامِ حالیردیف ز

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

۱

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگزدوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز

۲

عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کیدیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز

۳

ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سےتو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز

۴

جتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشقآ کے ویرانوں میں اب گھر نہ بسانا ہرگز

۵

کوچ سب کر گئے دلی سے ترے قدر شناسقدر یاں رہ کے اب اپنی نہ گنوانا ہرگز

۶

تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

۷

ڈھونڈتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز

۸

صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز

۹

لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز

۱۰

چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا کہیں اتنا نہ خزانہ ہرگز

۱۱

مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز

۱۲

وہ تو بھولے تھے ہمیں ہم بھی انہیں بھول گئےایسا بدلا ہے نہ بدلے گا زمانہ ہرگز

۱۳

ہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز

۱۴

آخری دور میں بھی تجھ کو قسم ہے ساقیبھر کے اک جام نہ پیاسوں کو پلانا ہرگز

۱۵

بخت سوئے ہیں بہت جاگ کے اے دور زماںنہ ابھی نیند کے ماتوں کو جگانا ہرگز

۱۶

کبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز

۱۷

شاعری مر چکی اب زندہ نہ ہوگی یارویاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہرگز

۱۸

غالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانا ہرگز

۱۹

مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنوںؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز

۲۰

کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کوورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز

۲۱

داغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز

۲۲

رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھوگے کبھی لطف شبانہ ہرگز

۲۳

بزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز

۹ / ۶۰