کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر
حب وطن
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارو
اے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
اے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھری
اے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکو
تم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیز
جب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپنا
تم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھے
تم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائی
آن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی
کرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساری
جب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھے
بیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتاب
کوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیں
پر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزار
نہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہے
سیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبال
کوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتا
کیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیں
ہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طور
گو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کا
اے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیں
رات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا
تیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرام
کاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرے
مٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کا
جو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزا
ہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سال
سچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے
میں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زار
کیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیں
جن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے تو
ہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے
سب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا
تیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے
جان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
حملہ جب قوم آریا نے کیااور بجا ان کا ہند میں ڈنکا
ملک والے بہت سے کام آئےجو بچے وہ غلام کہلائے
شدر کہلائے راکشس کہلائےرنج پردیس کے مگر نہ اٹھائے
گو غلامی کا لگ گیا دھبہنہ چھٹا ان سے دیس پر نہ چھٹا
قدر اے دل وطن میں رہنے کیپوچھے پردیسیوں کے جی سے کوئی
جب ملا رام چندر کو بن باساور نکلا وطن سے ہو کے اداس
باپ کا حکم رکھ لیا سر پرپر چلا ساتھ لے کے داغ جگر
پاؤں اٹھتا تھا اس کا بن کی طرفاور کھنچتا تھا دل وطن کی طرف
گزرے غربت میں اس قدر مہ و سالپر نہ بھولا ایودھیا کا خیال
دیس کو بن میں جی بھٹکتا رہادل میں کانٹا سا اک کھٹکتا رہا
تیر اک دل میں آ کے لگتا تھاآتی تھی جب ایودھیا کی ہوا
کٹنے چودہ برس ہوئے تھے محالگویا ایک ایک جگ تھا ایک اک سال
ہوئے یثرب کی سمت جب راہیسید ابطحیٰ کے ہم راہی
رشتے الفت کے سارے توڑ چلےاور بالکل وطن کو چھوڑ چلے
گو وطن سے چلے تھے ہو کے خفاپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکا
دل لگی کے بہت ملے سامانپر نہ بھولے وطن کے ریگستان
دل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھےسنگریزے زمین بطحا کے
گھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھادل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھا
ہوئیں یوسف کی سختیاں جب دوراور ہوا ملک مصر پر مامور
مصر میں چار سو تھا حکم رواںآنکھ تھی جانب وطن نگراں
یاد کنعاں جب اس کو آتی تھیسلطنت ساری بھول جاتی تھی
دکھ اٹھائے تھے جس وطن میں سختتاج بھاتا نہ اس بغیر نہ تخت
جن سے دیکھی تھی سخت بے مہریلو تھی ان بھائیوں کی دل کو لگی
ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرق
ہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانے
جس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کی
مصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطر
کر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوال
کھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیے
قافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھے
یوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیدار
او شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والے
نام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگن
کبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہے
یاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگی
نقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوار
کیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہے
اس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرند
ٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میں
جا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتا
آ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہار
مچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سے
آگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدور
گھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیں
گائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھی
کہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم تر
ہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فرد
جس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیح
قوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکے
قوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہو
سمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاں
رنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتم
بھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیل
جب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنو
مرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤ
جب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤ
پہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاک
کھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤ
کتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزار
نوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتا
جس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کو
کھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑی
پہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤ
ایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی تر
سب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسند
مقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کرو
جاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤ
ہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبر
تم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دو
تندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤ
تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر
ہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہمو
جعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنوی
سب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کو
ملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آباد
ہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کر
قوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھی
ایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہ
پھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئی
پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے
کبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹا
کبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیا
سب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کی
یہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کام
ورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تم
ملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سے
قوم سے جو تمہارے برتاؤسوچو اے میرے پیارو اور شرماؤ
اہل دولت کو ہے یہ استغناکہ نہیں بھائیوں کی کچھ پروا
شہر میں قحط کی دہائی ہےجان عالم لبوں پہ آئی ہے
بچے اک گھر میں بلبلاتے ہیںرو کے ماں باپ کو رلاتے ہیں
کوئی پھرتا ہے مانگتا در درہے کہیں پیٹ سے بندھا پتھر
پر جو ہیں ان میں صاحب مقدوران میں گنتی کے ہوں گے ایسے غیور
کہ جنہیں بھائیوں کا غم ہوگااپنی راحت کا دھیان کم ہوگا
جتنے دیکھو گے پاؤ گے بے درددل کے نامرد اور نام کے مرد
عیش میں جن کے کٹتے ہیں اوقاتعید ہے دن تو شبرات ہے رات
قوم مرتی ہے بھوک سے تو مرےکام انہیں اپنے حلوے مانڈے سے
ان کو اب تک خبر نہیں اصلاًشہر میں بھاؤ کیا ہے غلے کا
غلہ ارزاں ہے ان دنوں کہ گراںکال ہے شہر میں پڑا کہ سماں
کال کیا شے ہے کس کو کہتے ہیں بھوکبھوک میں کیونکہ مرتے ہیں مفلوک
سیر بھوکے کی قدر کیا سمجھےاس کے نزدیک سب ہیں پیٹ بھرے
اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمال
فاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فساد
ہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدا
رہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرح
عیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتا
شاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزار
لاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایک
اس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھر
ملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنساری
نسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہے
جس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگا
جس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے بات
باپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کا
کام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھوم
الغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیز
قوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساں
سب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گے
قوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گی
تربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اے
بھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیں
قوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیں
ہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑی
بند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتا
لیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئے
کرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتا
اہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہے
تم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤ
یہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاج
منہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیا
آپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیے
میز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپ
منڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزند
قوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاں
کچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالو
علم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں
سنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیں
جو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مرد
باپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپر
ماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولاد
بھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاں
اہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیں
کہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاری
اور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائم
نت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانے
ملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیر
ہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیب
قوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کے
کھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میں
لکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامے
گو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہال
ہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندن
کام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنو
چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤ
قافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوں
قافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہو
گر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سے
ان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہے
قوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاں
قوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزاز
عزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنر
ذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور
اب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیح
ہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میں
قوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہے
کوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گا
نہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی بات
گر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
۴۹ / ۶۰