کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر

حب وطن

۱

اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارو

۲

اے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا

۳

اے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھری

۴

اے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکو

۵

تم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیز

۶

جب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپنا

۷

تم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھے

۸

تم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائی

۹

آن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی

۱۰

کرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساری

۱۱

جب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھے

۱۲

بیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتاب

۱۳

کوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیں

۱۴

پر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزار

۱۵

نہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہے

۱۶

سیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبال

۱۷

کوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتا

۱۸

کیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیں

۱۹

ہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طور

۲۰

گو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کا

۲۱

اے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیں

۲۲

رات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

۲۳

تیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرام

۲۴

کاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرے

۲۵

مٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کا

۲۶

جو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزا

۲۷

ہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سال

۲۸

سچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے

۲۹

میں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زار

۳۰

کیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیں

۳۱

جن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے تو

۳۲

ہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے

۳۳

سب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا

۳۴

تیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملے

۳۵

جان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا

۳۶

حملہ جب قوم آریا نے کیااور بجا ان کا ہند میں ڈنکا

۳۷

ملک والے بہت سے کام آئےجو بچے وہ غلام کہلائے

۳۸

شدر کہلائے راکشس کہلائےرنج پردیس کے مگر نہ اٹھائے

۳۹

گو غلامی کا لگ گیا دھبہنہ چھٹا ان سے دیس پر نہ چھٹا

۴۰

قدر اے دل وطن میں رہنے کیپوچھے پردیسیوں کے جی سے کوئی

۴۱

جب ملا رام چندر کو بن باساور نکلا وطن سے ہو کے اداس

۴۲

باپ کا حکم رکھ لیا سر پرپر چلا ساتھ لے کے داغ جگر

۴۳

پاؤں اٹھتا تھا اس کا بن کی طرفاور کھنچتا تھا دل وطن کی طرف

۴۴

گزرے غربت میں اس قدر مہ و سالپر نہ بھولا ایودھیا کا خیال

۴۵

دیس کو بن میں جی بھٹکتا رہادل میں کانٹا سا اک کھٹکتا رہا

۴۶

تیر اک دل میں آ کے لگتا تھاآتی تھی جب ایودھیا کی ہوا

۴۷

کٹنے چودہ برس ہوئے تھے محالگویا ایک ایک جگ تھا ایک اک سال

۴۸

ہوئے یثرب کی سمت جب راہیسید ابطحیٰ کے ہم راہی

۴۹

رشتے الفت کے سارے توڑ چلےاور بالکل وطن کو چھوڑ چلے

۵۰

گو وطن سے چلے تھے ہو کے خفاپر وطن میں تھا سب کا جی اٹکا

۵۱

دل لگی کے بہت ملے سامانپر نہ بھولے وطن کے ریگستان

۵۲

دل میں آٹھوں پہر کھٹکتے تھےسنگریزے زمین بطحا کے

۵۳

گھر جفاؤں سے جن کی چھوٹا تھادل سے رشتہ نہ ان کا ٹوٹا تھا

۵۴

ہوئیں یوسف کی سختیاں جب دوراور ہوا ملک مصر پر مامور

۵۵

مصر میں چار سو تھا حکم رواںآنکھ تھی جانب وطن نگراں

۵۶

یاد کنعاں جب اس کو آتی تھیسلطنت ساری بھول جاتی تھی

۵۷

دکھ اٹھائے تھے جس وطن میں سختتاج بھاتا نہ اس بغیر نہ تخت

۵۸

جن سے دیکھی تھی سخت بے مہریلو تھی ان بھائیوں کی دل کو لگی

۵۹

ہم بھی حب وطن میں ہیں گو غرقہم میں اور ان میں ہے مگر یہ فرق

۶۰

ہم ہیں نام وطن کے دیوانےوہ تھے اہل وطن کے پروانے

۶۱

جس نے یوسف کی داستاں ہے سنیجانتا ہوگا روئداد اس کی

۶۲

مصر میں قحط جب پڑا آ کراور ہوئی قوم بھوک سے مضطر

۶۳

کر دیا وقف ان پہ بیت الماللب تک آنے دیا نہ حرف سوال

۶۴

کھتیاں اور کوٹھے کھول دیےمفت سارے ذخیرے تول دیے

۶۵

قافلے خالی ہاتھ آتے تھےاور بھرپور یاں سے جاتے تھے

۶۶

یوں گئے قحط کے وہ سال گزرجیسے بچوں کی بھوک وقت سحر

۶۷

اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیدار

۶۸

او شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والے

۶۹

نام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگن

۷۰

کبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہے

۷۱

یاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگی

۷۲

نقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوار

۷۳

کیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہے

۷۴

اس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرند

۷۵

ٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میں

۷۶

جا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتا

۷۷

آ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہار

۷۸

مچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سے

۷۹

آگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدور

۸۰

گھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیں

۸۱

گائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھی

۸۲

کہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم تر

۸۳

ہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فرد

۸۴

جس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیح

۸۵

قوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکے

۸۶

قوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہو

۸۷

سمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاں

۸۸

رنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتم

۸۹

بھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیل

۹۰

جب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک

۹۱

بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنو

۹۲

مرد ہو تم کسی کے کام آؤورنہ کھاؤ پیو چلے جاؤ

۹۳

جب کوئی زندگی کا لطف اٹھاؤدل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤ

۹۴

پہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاککرو دامن سے تا گریباں چاک

۹۵

کھانا کھاؤ تو جی میں تم شرماؤٹھنڈا پانی پیو تو اشک بہاؤ

۹۶

کتنے بھائی تمہارے ہیں نادارزندگی سے ہے جن کا دل بیزار

۹۷

نوکروں کی تمہارے جو ہے غذاان کو وہ خواب میں نہیں ملتا

۹۸

جس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہوواں میسر نہیں وہ اوڑھنے کو

۹۹

کھاؤ تو پہلے لو خبر ان کیجن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑی

۱۰۰

پہنو تو پہلے بھائیوں کو پہناؤکہ ہے اترن تمہاری جن کا بناؤ

۱۰۱

ایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمرہے کوئی ان میں خشک اور کوئی تر

۱۰۲

سب کو ہے ایک اصل سے پیوندکوئی آزردہ ہے کوئی خورسند

۱۰۳

مقبلو! مدبروں کو یاد کروخوش دلو غم زدوں کو شاد کرو

۱۰۴

جاگنے والے غافلوں کو جگاؤتیرنے والو ڈوبتوں کو تراؤ

۱۰۵

ہیں ملے تم کو چشم و گوش اگرلو جو لی جائے کور و کر کی خبر

۱۰۶

تم اگر ہاتھ پاؤں رکھتے ہولنگڑے لولوں کو کچھ سہارا دو

۱۰۷

تندرستی کا شکر کیا ہے بتاؤرنج بیمار بھائیوں کا ہٹاؤ

۱۰۸

تم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیر

۱۰۹

ہو مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہمو

۱۱۰

جعفری ہووے یا کہ ہو حنفیجین مت ہووے یا ہو ویشنوی

۱۱۱

سب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کو

۱۱۲

ملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آباد

۱۱۳

ہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیوں کر

۱۱۴

قوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہات دھو بیٹھی

۱۱۵

ایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی پڑنے تم پہ نگاہ

۱۱۶

پھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئی

۱۱۷

پاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگے

۱۱۸

کبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹا

۱۱۹

کبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیا

۱۲۰

سب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کی

۱۲۱

یہ بھی تم پر خدا کا تھا انعامکہ پڑا تم کو ایسی قوم سے کام

۱۲۲

ورنہ دم مارنے نہ پاتے تمپڑتی جو سر پہ وہ اٹھاتے تم

۱۲۳

ملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہے غیروں سے

۱۲۴

قوم سے جو تمہارے برتاؤسوچو اے میرے پیارو اور شرماؤ

۱۲۵

اہل دولت کو ہے یہ استغناکہ نہیں بھائیوں کی کچھ پروا

۱۲۶

شہر میں قحط کی دہائی ہےجان عالم لبوں پہ آئی ہے

۱۲۷

بچے اک گھر میں بلبلاتے ہیںرو کے ماں باپ کو رلاتے ہیں

۱۲۸

کوئی پھرتا ہے مانگتا در درہے کہیں پیٹ سے بندھا پتھر

۱۲۹

پر جو ہیں ان میں صاحب مقدوران میں گنتی کے ہوں گے ایسے غیور

۱۳۰

کہ جنہیں بھائیوں کا غم ہوگااپنی راحت کا دھیان کم ہوگا

۱۳۱

جتنے دیکھو گے پاؤ گے بے درددل کے نامرد اور نام کے مرد

۱۳۲

عیش میں جن کے کٹتے ہیں اوقاتعید ہے دن تو شبرات ہے رات

۱۳۳

قوم مرتی ہے بھوک سے تو مرےکام انہیں اپنے حلوے مانڈے سے

۱۳۴

ان کو اب تک خبر نہیں اصلاًشہر میں بھاؤ کیا ہے غلے کا

۱۳۵

غلہ ارزاں ہے ان دنوں کہ گراںکال ہے شہر میں پڑا کہ سماں

۱۳۶

کال کیا شے ہے کس کو کہتے ہیں بھوکبھوک میں کیونکہ مرتے ہیں مفلوک

۱۳۷

سیر بھوکے کی قدر کیا سمجھےاس کے نزدیک سب ہیں پیٹ بھرے

۱۳۸

اہل دولت کا سن چکے تم حالاب سنو روئیداد اہل کمال

۱۳۹

فاضلوں کو ہے فاضلوں سے عنادپنڈتوں میں پڑے ہوئے ہیں فساد

۱۴۰

ہے طبیبوں میں نوک جھوک سداایک سے ایک کا ہے تھوک جدا

۱۴۱

رہنے دو اہل علم ہیں اس طرحپہلوانوں میں لاگ ہو جس طرح

۱۴۲

عیدو والوں کا ہے اگر پٹھاشیخو والوں میں جا نہیں سکتا

۱۴۳

شاعروں میں بھی ہے یہی تکرارخوشنویسوں کو ہے یہی آزار

۱۴۴

لاکھ نیکوں کا کیوں نہ ہو اک نیکدیکھ سکتا نہیں ہے ایک کو ایک

۱۴۵

اس پہ طرہ یہ ہے کہ اہل ہنردور سمجھے ہوئے ہیں اپنا گھر

۱۴۶

ملی اک گانٹھ جس کو ہلدی کیاس نے سمجھا کہ میں ہوں پنساری

۱۴۷

نسخہ اک طب کا جس کو آتا ہےسگے بھائی سے وہ چھپاتا ہے

۱۴۸

جس کو آتا ہے پھونکنا کشتہہے ہماری طرف سے وہ گونگا

۱۴۹

جس کو ہے کچھ رمل میں معلوماتوہ نہیں کرتا سیدھے منہ سے بات

۱۵۰

باپ بھائی ہو یا کہ ہو بیٹابھید پاتا نہیں منجم کا

۱۵۱

کام کندلے کا جس کو ہے معلومہے زمانہ میں اس کی بخل کی دھوم

۱۵۲

الغرض جس کے پاس ہے کچھ چیزجان سے بھی سوا ہے اس کو عزیز

۱۵۳

قوم پر ان کا کچھ نہیں احساںان کا ہونا نہ ہونا ہے یکساں

۱۵۴

سب کمالات اور ہنر ان کےقبر میں ان کے ساتھ جائیں گے

۱۵۵

قوم کیا کہہ کے ان کو روئے گینام پر کیوں کہ جان کھوئے گی

۱۵۶

تربیت یافتہ ہیں جو یاں کےخواہ بی اے ہوں اس میں یا ایم اے

۱۵۷

بھرتے حب وطن کا گو دم ہیںپر محب وطن بہت کم ہیں

۱۵۸

قوم کو ان سے جو امیدیں تھیںاب جو دیکھا تو سب غلط نکلیں

۱۵۹

ہسٹری ان کی اور جیوگرفیسات پردے میں منہ دیے ہے پڑی

۱۶۰

بند اس قفل میں ہے علم ان کاجس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتا

۱۶۱

لیتے ہیں اپنے دل ہی دل میں مزےگویا گونگے کا گڑ ہیں کھائے ہوئے

۱۶۲

کرتے پھرتے ہیں سیر گل تنہاکوئی پاس ان کے جا نہیں سکتا

۱۶۳

اہل انصاف شرم کی جا ہےگر نہیں بخل یہ تو پھر کیا ہے

۱۶۴

تم نے دیکھا ہے جو وہ سب کو دکھاؤتم نے چکھا ہے جو وہ سب کو چکھاؤ

۱۶۵

یہ جو دولت تمہارے پاس ہے آجہم وطن اس کے ہیں بہت محتاج

۱۶۶

منہ کو ایک اک تمہارے ہے تکتاکہ نکلتا ہے منہ سے آپ کے کیا

۱۶۷

آپ شائستہ ہیں تو اپنے لیےکچھ سلوک اپنی قوم سے بھی کیے

۱۶۸

میز کرسی اگر لگاتے ہیں آپقوم سے پوچھئے تو پن ہے نہ پاپ

۱۶۹

منڈا جوتا گر آپ کو ہے پسندقوم کو اس سے فائدہ نہ گزند

۱۷۰

قوم پر کرتے ہو اگر احساںتو دکھاؤ کچھ اپنا جوش نہاں

۱۷۱

کچھ دنوں عیش میں خلل ڈالوپیٹ میں جو ہے سب اگل ڈالو

۱۷۲

علم کو کر دو کو بہ کو ارزاںہند کو کر دکھاؤ انگلستاں

۱۷۳

سنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیں

۱۷۴

جو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مرد

۱۷۵

باپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپر

۱۷۶

ماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولاد

۱۷۷

بھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاں

۱۷۸

اہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیں

۱۷۹

کہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاری

۱۸۰

اور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائم

۱۸۱

نت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانے

۱۸۲

ملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیر

۱۸۳

ہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیب

۱۸۴

قوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کے

۱۸۵

کھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میں

۱۸۶

لکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامے

۱۸۷

گو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہال

۱۸۸

ہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندن

۱۸۹

کام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنو

۱۹۰

چھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤ

۱۹۱

قافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوں

۱۹۲

قافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہو

۱۹۳

گر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سے

۱۹۴

ان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہے

۱۹۵

قوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاں

۱۹۶

قوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزاز

۱۹۷

عزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنر

۱۹۸

ذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستور

۱۹۹

اب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیح

۲۰۰

ہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میں

۲۰۱

قوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہے

۲۰۲

کوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گا

۲۰۳

نہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی بات

۲۰۴

گر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا

۴۹ / ۶۰