کلامِ حسرتردیف الف

تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا

۱

تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہاکچھ فقط میں ہی مبتلا نہ رہا

۲

آپ کو اب ہوئی ہے قدر وفاجب کہ میں لائق جفا نہ رہا

۳

راہ و رسم وفا وہ بھول گئےاب ہمیں بھی کوئی گلہ نہ رہا

۴

حسن خود ہو گیا غریب نوازعشق محتاج التجا نہ رہا

۵

بسکہ نظارہ سوز تھا وہ جمالہوش نظارگی بجا نہ رہا

۶

میں کبھی تجھ سے بد گماں نہ ہواتو کبھی مجھ سے آشنا نہ رہا

۷

آپ کا شوق بھی تو اب دل میںآپ کی یاد کے سوا نہ رہا

۸

اور بھی ہو گئے وہ غافل خوابنالۂ صبح نارسا نہ رہا

۹

حسن کا ناز عاشقی کا نیازاب تو کچھ بھی وہ ماجرا نہ رہا

۱۰

عشق جب شکوہ سنج حسن ہواالتجا ہو گئی گلہ نہ رہا

۱۱

ہم بھروسے پہ ان کے بیٹھ رہےجب کسی کا بھی آسرا نہ رہا

۱۲

میرے غم کی ہوئی انہیں بھی خبراب تو یہ درد لا دوا نہ رہا

۱۳

آرزو تیری برقرار رہےدل کا کیا ہے رہا رہا نہ رہا

۱۴

ہو گئے ختم مجھ پہ جور فلکاب کوئی مورد بلا نہ رہا

۱۵

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثرنظم حسرتؔ میں بھی مزا نہ رہا

۳ / ۷۹