کلامِ حسرتردیف الف
حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا
۱
حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیاکیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا
۲
بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بیتابیاںہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا
۳
پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئیاضطراب شوق نے اک حشر برپا کر دیا
۴
ہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرم نیازتجھ کو آخر آشنائے ناز بے جا کر دیا
۵
اب نہیں دل کو کسی صورت کسی پہلو قراراس نگاہ ناز نے کیا سحر ایسا کر دیا
۶
عشق سے تیرے بڑھے کیا کیا دلوں کے مرتبےمہر ذروں کو کیا قطروں کو دریا کر دیا
۷
کیوں نہ ہو تیری محبت سے منور جان و دلشمع جب روشن ہوئی گھر میں اجالا کر دیا
۸
تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجالدیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا
۹
سب غلط کہتے تھے لطف یار کو وجہ سکوںدرد دل اس نے تو حسرتؔ اور دونا کر دیا
۴ / ۷۹