کلامِ حسرتردیف ے
نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے
۱
نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہےہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہے
۲
اس چہرۂ انور کی ضیا میرے لیے ہےوہ زلف سیہ تاب دوتا میرے لیے ہے
۳
زنہار اگر اہل ہوس تجھ پہ فدا ہوںیہ مرتبۂ صدق و صفا میرے لیے ہے
۴
بن کر میں رضاکار مہیائے فنا ہوںآوازۂ حق بانگ درا میرے لیے ہے
۵
خوشنودۂ فجار کے پیرو ہیں یزیدیتقلید شہ کرب و بلا میرے لیے ہے
۶
محروم ہوں مجبور ہوں بے تاب و تواں ہوںمخصوص ترے غم کا مزا میرے لیے ہے
۷
سرمایۂ راحت ہے فنا کی مجھے تلخیاس زہر میں سامان بقا میرے لیے ہے
۸
جنت کی ہوس ہو تو میں کافر، کہ پریشاںاس شوخ کی خوشبوئے قبا میرے لیے ہے
۹
پہلے بھی کچھ امید نہ تھی چارہ گروں کواور اب تو دوا ہے نہ دعا میرے لیے ہے
۱۰
مر جاؤں گا مے خانے سے نکلا جو کبھی میںنظارۂ مے روح فزا میرے لیے ہے
۱۱
تشخیص طبیباں پہ ہنسی آتی ہے حسرتؔیہ درد جگر ہے کہ دوا میرے لیے ہے
۶۷ / ۷۹