کلامِ حسرتردیف ے

مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے

۱

مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہےوہ بے پروا الٰہی مجھ پہ کیوں گرم نوازش ہے

۲

پے مشق تغافل آپ نے مخصوص ٹھہرایاہمیں یہ بات بھی منجملۂ اسباب نازش ہے

۳

مٹا دے خود ہمیں گر شکوۂ غم مٹ نہیں سکتاجفائے یار سے یہ آخری اپنی گزارش ہے

۴

کہاں ممکن کسی کو باریابی ان کی محفل میںنہ اطمینان کوشش ہے نہ امید سفارش ہے

۵

نہاں ہے دل پذیری جس کے ہر ہر لفظ شیریں میںیہ کس جان وفا کے ہاتھ کی رنگیں نگارش ہے

۶

کیا تھا ایک دن دل نے جو دعوئے شکیبائیسو اب تک ان کے ناز دلبری کو ہم سے کاوش ہے

۷

ہجوم یاس نے بیدل کیا ایسا کہ حسرتؔ کوترے آنے کی اب امید باقی ہے نہ خواہش ہے

۶۶ / ۷۹