کلامِ حسرتردیف ے
کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سے
۱
کیا وہ اب نادم ہیں اپنے جور کی روداد سےلائے ہیں میرٹھ جو آخر مجھ کو فیض آباد سے
۲
سیر گل کو آئی تھی جس دم سواری آپ کیپھول اٹھا تھا چمن فخر مبارک باد سے
۳
ہر کس و ناکس ہو کیونکر کامگار بے خودییہ ہنر سیکھا ہے دل نے اک بڑے استاد سے
۴
اک جہاں مست محبت ہے کہ ہر سو بوئے انسچھائی ہے ان گیسوؤں کی نکہت برباد سے
۵
اب تلک موجود ہے کچھ کچھ لگا لائے تھے ہموہ جو اک لپکا کبھی نہ خاک جہاں آباد سے
۶
دعوی تقوی کا حسرتؔ کس کو آتا ہے یقیںآپ اور جاتے رہیں پیر مغاں کی یاد سے
۷۰ / ۷۹