کلامِ حسرتردیف ے

کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے

۱

کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سےمرتا ہے تو مر جائے کوئی ان کی بلا سے

۲

مجھ سے بھی خفا ہو ، میری آہوں سے بھی برہمتم بھی عجب چیز ہو، کہ لڑتے ہو ہوا سے

۳

دامن کو بچاتا ہے وہ کافر کہ مباداچھو جائے کہیں پاکی خون شہدا سے

۴

دیوانہ کیا ساقی محفل نے سبھی کوکوئی نہ بچا اس نظر ہوش ربا سے

۵

اک یہ بھی حقیقت میں ہے شان کرم ان کیظاہر میں وہ رہتے ہیں جو ہر وقت خفا سے

۶

آگاہ غم عشق نہیں ، وہ شہ خوباںاور یہ بھی جو ہو جائے فقیروں کی دعا سے

۷

قائل ہوئے رندان خرابات کے حسرتؔجب کچھ نہ ملا ہم کو گروہ عرفا سے

۷۱ / ۷۹