کلامِ حسرتردیف م
اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم
اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہمگھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم
کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مرادلیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم
اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجرمسرور ہیں تری خلش ناتواں سے ہم
معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعااب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم
اے زہد خشک تیری ہدایت کے واسطےسوغات عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم
بیتابیوں سے چھپ نہ سکا حال آرزوآخر بچے نہ اس نگہ بدگماں سے ہم
پیرانہ سر بھی شوق کی ہمت بلند ہےخواہان کام جاں ہیں جو اس نوجواں سے ہم
مایوس بھی تو کرتے نہیں تم ز راہ نازتنگ آ گئے ہیں کشمکش امتحاں سے ہم
خلوت بنے گی تیرے غم جاں نواز کیلیں گے یہ کام اپنے دل شادماں سے ہم
ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوقپھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم
حسرتؔ پھر اور جا کے کریں کس کی بندگیاچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم
۲۲ / ۷۹