کلامِ حسرتردیف م

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

۱

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہمگھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم

۲

کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مرادلیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم

۳

اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجرمسرور ہیں تری خلش ناتواں سے ہم

۴

معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعااب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم

۵

اے زہد خشک تیری ہدایت کے واسطےسوغات عشق لائے ہیں کوئے بتاں سے ہم

۶

بیتابیوں سے چھپ نہ سکا حال آرزوآخر بچے نہ اس نگہ بدگماں سے ہم

۷

پیرانہ سر بھی شوق کی ہمت بلند ہےخواہان کام جاں ہیں جو اس نوجواں سے ہم

۸

مایوس بھی تو کرتے نہیں تم ز راہ نازتنگ آ گئے ہیں کشمکش امتحاں سے ہم

۹

خلوت بنے گی تیرے غم جاں نواز کیلیں گے یہ کام اپنے دل شادماں سے ہم

۱۰

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوقپھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

۱۱

حسرتؔ پھر اور جا کے کریں کس کی بندگیاچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم

۲۲ / ۷۹