کلامِ حسرتردیف م

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

۱

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمامدہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

۲

حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطرابدل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

۳

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخودرنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

۴

دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاکباقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام

۵

دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاںبے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام

۶

ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یارلبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام

۷

نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میںشادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

۸

اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیامگلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام

۹

اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاںپھیلے گی یوں ہی شورش حب وطن تمام

۱۰

سمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریب مرگمغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام

۱۱

شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔحسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام

۲۳ / ۷۹