وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیںآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

About this couplet

This is couplet 1 of 5 in “⁨وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Fazl-ul-Hasan Hasrat Mohani's Urdu book Kalam-e-Hasrat (⁨کلامِ حسرت⁩).

Read it in the poem

۱ / ۵