کلامِ حسرتردیف ن

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

۱

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیںآرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں

۲

بے زبانی ترجمانی شوق بے حد ہو تو ہوورنہ پیشِ یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں

۳

مِٹ رہی ہیں دل سے یادیں روز گارِ عیش کیاب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں

۴

التفات یار تھا اک خوابِ آغازِ وفاسچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں

۵

تیری بے صبری ہے حسرتؔ خامکاری کی دلیلگریۂ عشاّق میں ہوتی ہیں تاثیریں کہیں

۳۶ / ۷۹