وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
مِٹ رہی ہیں دل سے یادیں روز گارِ عیش کیاب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں
About this couplet
This is couplet 3 of 5 in “وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Fazl-ul-Hasan Hasrat Mohani's Urdu book Kalam-e-Hasrat (کلامِ حسرت).
Read it in the poem۳ / ۵