کلامِ حسرتمثنویات، مراثی و دیگر

کرشن

۱

متھرا کہ نگر ہے عاشقی کادم بھرتی ہے آرزو اسی کا

۲

ہر ذرۂ سر زمین گوکلدارا ہے جمال دلبری کا

۳

برسانا و نند گاؤں میں بھیدیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کا

۴

پیغام حیات جاوداں تھاہر نغمۂ کرشن بانسری کا

۵

وہ نور سیاہ یا کہ حسرتسر چشمہ فروغ آگہی کا

۷۹ / ۷۹