کلامِ حسرتمثنویات، مراثی و دیگر

فیض محبت سے ہے قید محن

۱

فیض محبت سے ہے قید محنمیرے لیے ایک بلائے حسن

۲

شام غریباں کے برابر کہاںمذہب عشاق میں صبح وطن

۳

آہ وہ غارت گر صبر و شکیبسلسلۂ زلف شکن در شکن

۴

فتنۂ جاں وہ سخن دل پذیردشمن دیں وہ نگہ سحر فن

۵

جلوۂ جاناں سے ہے دارالسرورخانۂ جاں اب نہیں بیت الحزن

۶

مہر و مروت سے تمہیں واسطایہ بھی حریفوں کا ہے اک حسن ظن

۷

جب سے کہا عشق نے حسرتؔ مجھےکوئی بھی کہتا نہیں فضل الحسن

۷۸ / ۷۹