کلامِ انشاردیف الف

دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا

۱

دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میراجب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا

۲

ہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلیاس شہر میں ہوا جو چندے قیام میرا

۳

جو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤں گا میںواہی نہ بات سمجھو یوں ہی کلام میرا

۴

اچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو میں بھیسمجھوں گا گر ہے انشا اللہ نام میرا

۵

میں غش ہوا کہا جوں ساقی نے مجھ سے ہنس کریہ سبز جام تیرا اور سرخ جام میرا

۶

پوچھا کسی نے مجھ کو ان سے کہ کون ہے یہتو بولے ہنس کے یہ بھی ہے اک غلام میرا

۷

محشر کی تشنگی سے کیا خوف سید انشاؔکوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا

۸ / ۸۰