کلامِ انشاردیف ے
مل گئے پر حجاب باقی ہے
۱
مل گئے پر حجاب باقی ہےفکر ناز و عتاب باقی ہے
۲
بات سب ٹھیک ٹھاک ہے پہ ابھیکچھ سوال و جواب باقی ہے
۳
گرچہ معجون کھا چکے لیکندور جام شراب باقی ہے
۴
جھوٹے وعدے سے ان کے یاں اب تکشکوۂ بے حساب باقی ہے
۵
گاہ کہتے ہیں شام ہوئی ابھیذرۂ آفتاب باقی ہے
۶
پھر کبھی یہ کہ ابر میں کچھ کچھپرتو ماہتاب باقی ہے
۷
ہے کبھی یہ کہ تجھ پہ چھڑکیں گےجو لگن میں شہاب باقی ہے
۸
اور بھڑکے ہے اشتیاق کی آگاب کسے صبر و تاب باقی ہے
۹
اڑ گئی نیند آنکھ سے کس کیلذت خورد و خواب باقی ہے
۱۰
ہے خوشی سب طرح کی، ناحق کاخطرۂ انقلاب باقی ہے
۱۱
ہے وہ دل کی دھڑک سو جوں کی توںجی پر اس کا عذاب باقی ہے
۱۲
جو بھرا شیشہ تھا ہوا خالیپر وہ بوئے گلاب باقی ہے
۱۳
اپنی امید تھی سو بر آئییاس شکل سراب باقی ہے
۱۴
ہے یہی ڈول جب تک آنکھوں میںدم بسان حباب باقی ہے
۱۵
مثل فرمودۂ حضور انشاؔپھر وہی اضطراب باقی ہے
۵۶ / ۸۰