کلامِ انشاردیف ے
بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے
بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سےکہ بنا ہوا ہو جو خاک سے اسے کیا مناسبت آگ سے
بہت اپنی تاک بلند تھی کوئی بیس گز کی کمند تھیپر اچھال پھاندا وہ بند تھی ترے چوکیداروں کی جاگ سے
بہت آئے مہرے کڑے کڑے وہ جو منڈ جی تھے بڑے بڑےولے ایسے تو نہ نظر پڑے کہ جو صاف پاک ہوں لاگ سے
وہ سیاہ بخت جو رات کو ترے دام زلف میں پھنس گیااسے آ کے وہم و خیال کے لگے ڈسنے سیکڑوں ناگ سے
بھرا میں نے بندرابن میں جو ارے کشن ہوپ کا نعرہ تومہاراج ناچتے کودتے چلے آئے لٹ پٹی پاگ سے
لگے کہنے کھیم کُسل اسے جو علیؔ کے دھیان کے بیچ ہےتورے دکھ دلدر جتی تھے گئے بھاگ آپ کے بھاگ سے
ہوئے عاشق ان کے ہیں مرد و زن یہ انوکھی ان کی بھی کچھ نہیںکوئی تازہ آئے ہیں برہمن یہ جو کاشی اور پراگ سے
تجھے چاہتے نہیں ہم ہیں بس انہوں کو بھی تو تری ہوسوہ جو بھکڑے بیر سے سو برس کے پرانے بوڑھے ہیں داگ سے
اے لو آئے آئے سوائے کچھ نہیں بات دھیان میں چڑھتی کچھکچھ اک ان فقیروں کی مجلسیں بھی تو ملتی جلتی ہیں بھاگ سے
مجھے کام ان کے جمال سے نہ تو ٹپّے سے نہ خیال سےنہ تو وجد سے نہ تو حال سے نہ تو ناچ سے نہ تو راگ سے
یہ سعادت اس کو علیؔ نے دی جو وزیر اعظم ہند ہےکہ بدولت اس کی جہان میں نہیں خوف بکری کو باگ سے
مجھے رحم آتا ہے ایسوں پر بسر اپنے کرتے ہیں وقت جوکسی پھل سے یا کسی پھول سے کسی پات سے کسی ساگ سے
گتھی ان سروں ہی میں آ گئی مجھے اک عروس کے باس سےابھی انشاؔ اپنا ہو بس اگر تو لپٹ ہی جاؤں بہاگ سے
۵۷ / ۸۰