کلامِ انشاردیف ی

کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوری

۱

کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوریتا مجھ سے بھی ہو جام مئے ناب کی چوری

۲

ٹک تکیہ پہ سر دھر کے رہا سو تو لگائیصاحب نے ہمیں مسند کمخواب کی چوری

۳

سیماب کے آنسو وہ سدا روئے الٰہیکی جس نے ہو میرے دل بے تاب کی چوری

۴

وہ عشق کہ سچ آنکھوں سے کاجل کو چرا لےکس طرح نہ عاشق کے کرے خواب کی چوری

۵

مجھ کو سر بازار گھسٹوا کے نکالاکی اس نے ہی کچھ خانۂ نواب کی چوری

۶

جس نے کہ مرے چہرہ سے آب آہ اڑا لےثابت ہوئی اس پر در نایاب کی چوری

۷

شب سیندھ جو دی داغ کی ایک چور نے انشاؔتو ہو گئی سب صبر کے اسباب کی چوری

۵۵ / ۸۰