کلامِ انشاردیف ے

زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے

۱

زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہےیہ آگ عشق کی یا رب کدھر سے اتری ہے

۲

اترتی نجد میں کب تھی سواریٔ لیلیٰٹک آہ قیس کے جذب اثر سے اتری ہے

۳

نہیں نسیم بہاری یہ ہے پری کوئیاڑن کھٹولے کو ٹھہرا جو فر سے اتری ہے

۴

نہ جان اس کو شب مہ یہ چاندنی خانمکمند نور پہ اوج قمر سے اتری ہے

۵

چلو نہ دیکھیں تو کہتے ہیں دشت وحشت میںجنوں کی فوج بڑے کر و فر سے اتری ہے

۶

نہیں یہ عشق تجلی ہے حق تعالی کیجو راہ زینۂ بام نظر سے اتری ہے

۷

لباس آہ میں لکھنے کے واسطے انشاؔقلم دوات تجھے عرش پر سے اتری ہے

۵۸ / ۸۰