کلامِ انشاردیف ے
شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنے
شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنےدل سے جو کراہ اٹھی لیلیٰ کو لیا تپ نے
دیکھے ترے جلوہ کو بامہن کی جو بیٹی بھیمنہ سے وہیں کلمہ کو یکبار لگے جپنے
ہے جنس پری سا کچھ آدم تو نہیں اصلاًاک آگ لگا دی ہے اس امرد خوش گپ نے
اس طرح کے ملنے میں کیا لطف رہا باقیہم اس سے لگے رکنے وہ ہم سے لگا چھپنے
ہنگام سخن سنجی آتش کی زبانی کوشرمندہ کیا اے دل اس شوخ کے گپ شپ نے
ہر امر میں دنیا کے موجود جدھر دیکھوآدم کو کیا حیراں شیطان کی لپ جھپ نے
گرمی سے مرے دل کی اس موسم سرما میںیہ گنبد گردوں بھی یکبار لگا تپنے
رہ وادیٔ ایمن کی لیتا ہوں کہ گھبرایااس دل کی بدولت یاں مجھ کو طرف چپ نے
ہے ہم سے بھی ہو سکتا جو کچھ نہ کیا ہوگامجنوں سے جفا کش نے فرہاد سے سر کھپ نے
چل ہٹ بھی پرے بجلی دل بادلوں کو لے کردہلا ہے دیا تیری تلواروں کی شپ شپ نے
کب تک نہ کراہوں میں نالہ نہ بھروں کیوں کرمیں کیا کروں اے انشاؔ اب جی ہی لگا کھپنے
۵۹ / ۸۰