کلامِ انشاردیف ے
مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھے
۱
مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھےمیں اور تو کیا کوسوں پر تم سے خدا سمجھے
۲
سمجھانے کی جو باتیں کیں میں نے دلا تجھ سےاے عقل کی دشمن سو تیری تو بلا سمجھے
۳
دل میں مرے چٹکی لی ایسی ہے کہ درد اٹھامعقول چے خوش اے واہ آپ اس کو ادا سمجھے
۴
اے بو لہب نخوت سیدھے ہیں اگر سچ مچتو آج سے صاحب کو ہم اپنا چچا سمجھے
۵
صاحب نے نہ کی یاری وحشت سے پری سے تواے شیخ جنوں تم کو ہم خواجہ سرا سمجھے
۶
ہنگامۂ محشر بھی گر سامنے آیا تواس کو بھی تماشائی ایک سانگ نیا سمجھے
۷
وہ دشت محبت میں رکھے قدم اے انشاؔسر اپنے کو آگے ہی جو تن سے جدا سمجھے
۶۱ / ۸۰