کلامِ انشاردیف ے

لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرے

۱

لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرےیار گر اس طرف کو آن پھرے

۲

چین کیا ہو ہمیں جب آٹھ پہراپنے آنکھوں میں وہ جوان پھرے

۳

خون عاشق چھٹا کہ ہے لازمتیرے تلوار پر یہ سان پھرے

۴

ساقیا آج جام صہبا پرکیوں نہ لہراتی اپنی جان پھرے

۵

ہچکیاں لی ہے اس طرح بط مےجس طرح گٹکری میں تان پھرے

۶

یا تو وہ عہد تھے کہ ہم ہرگزنہ پھریں گے اگر جہان پھرے

۷

آئے اب روکے ہو معاذ اللہآپ سے شخص کی زبان پھرے

۸

روٹھ کر اٹھ چلے تھے انشاؔ سےبارے پھر ہو کے مہربان پھرے

۶۲ / ۸۰