کلامِ انشاردیف ے

جی چاہتا ہے شیخ کے پگڑی اتارئیے

۱

جی چاہتا ہے شیخ کہ پگڑی اتارئیےاور تان کر چٹاخ سے ایک دھول ماریے

۲

سوتوں کو پچھلے پہر بھلا کیوں پکاریےدروازہ کھلنے کا نہیں گھر کو سدھاریے

۳

کیا سرو اکڑ رہا ہے کھڑا جوئبار پرٹک آپ بھی تو اس گھڑی سینہ ابھارئے

۴

یہ کارخانہ دیکھیے ٹک آپ دھیان سےبس سون کھینچ جائے یہاں دم نہ ماریے

۵

ناصح نے میرے حق میں کہا اہل بزم سےبگڑی ہوئی کو آہ کہاں تک سنوارئیے

۶

انشاؔ خدا کے فضل پہ رکھیے نگاہ اوردن ہنس کے کاٹ ڈالئے ہمت نہ ہاریے

۶۳ / ۸۰