کلامِ انشاردیف ے

بستی تجھ بن اجاڑ سی ہے

۱

بستی تجھ بن اجاڑ سی ہےکمبخت یہ شب پہاڑ سی ہے

۲

شاید کہ ہوئی سرایت عشقکچھ سینہ میں چیر پھاڑ سی ہے

۳

ہر چند کہ بولتے نہیں وہباہم پر چھیڑ چھاڑ سی ہے

۴

سو رہتے ہیں ایک ساتھ لیکنتلوار کے بیچ آڑ سی ہے

۵

انشا اللہ شاید آیااس کوچہ میں بھیڑ بھاڑ سی ہے

۶۴ / ۸۰