کلامِ انشاردیف ے
اشک مژگان تر کی پونجی ہے
۱
اشک مژگان تر کی پونجی ہےیہ ثمر اس شجر کی پونجی ہے
۲
آہ کو مت حقیر جان یہیدودمان اثر کی پونجی ہے
۳
جو گھڑی یاد میں تری کٹ جائےوہ ہی آٹھوں پہر کی پونجی ہے
۴
جلوۂ یار ہے عزیز بہتیہی اہل نظر کی پونجی ہے
۵
جلد اچھا ہو یہ تعالیٰ اللہیہی انشاؔ کے گھر کی پونجی ہے
۶
تیری بخشی ہوئی خداوندامیری یہ عمر بھر کے پونجی ہے
۷
میں ترے صدقے بس یہی میرےدل و جان و جگر کی پونجی ہے
۶۵ / ۸۰