کلامِ انشاردیف ے
آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے
۱
آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سےاب ہے امید صرف خدا ہی کی ذات سے
۲
ساقی ہوائے سرد کو تو سرسری نہ جانکیفیت اس کی پوچھ نبات نبات سے
۳
اپنا صنم وہ قہر ہے اے برہمن کہ گردیکھے منات کو تو گرا دیوے لات سے
۴
کل سے تو اختلاط میں تازہ ہے اختراعرکنے لگی ہیں آپ مری بات بات سے
۵
پیش آئیے بشفقت و لطف اس سے شیخ جینبت العنب کو جانئے اپنے نبات سے
۶
حاصل کیا جو ہم نے قدم بوس پیر دیرآئی صدائے عشق در سومنات سے
۷
ہیں واجب الوجود کے انوار عشق میںاس کی صفات ذات نہیں ممکنات سے
۸
اشعار طبع زاد مری سن کے شوخ وہکہنے لگا کہ فائدہ اس مہملات سے
۹
مطلق ملا کے آنکھ ادھر دیکھتے نہیںآتے نظر ہو آج بھی کم التفات سے
۱۰
انشاؔ نے آ لگا ہی لیا تم کو بات میںظالم وہ چوکتا ہے کوئی اپنی گھات سے
۶۶ / ۸۰