کلامِ انشاردیف ے
یہ نہیں برق اک فرنگی ہے
۱
یہ نہیں برق اک فرنگی ہےرعد و باراں فسون جنگی ہے
۲
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگےوہ تو بیچاری آپ ننگی ہے
۳
واہ دلی کی مسجد جامعجس میں براق فرش سنگی ہے
۴
حوصلہ ہے فراخ رندوں کاخرچ کی پر بہت سی تنگی ہے
۵
لگ گئے عیب سارے اس کے ساتھیوں کہا جس کو مرد بنگی ہے
۶
ڈرو وحشت کے دھوم دھام سے تموہ تو اک دیونی دبنگی ہے
۷
جوگی جی صاحب آپ کی بھی واہدھرم مورت عجب کو ڈھنگی ہے
۸
آپ ہی آپ ہے پکار اٹھتادل بھی جیسے گھڑی فرنگی ہے
۹
چشم بد دور شیخ جی صاحبکیا ازار آپ کے اوٹنگی ہے
۱۰
شیخ سعدیٔ وقت ہے انشاؔتو ابوبکرؔ سعد زنگی ہے
۶۷ / ۸۰